حضرت موسیٰؑ اور چرواہے کی کہانی - اخلاص کا سبق
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک چرواہے کے پاس سے گزرے۔ وہ اللہ سے بہت سادہ انداز میں دعا کر رہا تھا۔
<h3>کہانی</h3>
چرواہا کہہ رہا تھا: "اے اللہ! تو کہاں ہے؟ میں تیرے کپڑے دھوؤں گا، تیرے بالوں میں کنگھی کروں گا، تیرے لیے روٹی پکاؤں گا۔"
حضرت موسیٰؑ نے یہ سنا تو فرمایا: "اے شخص! اللہ کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں۔ اس طرح دعا نہ کرو۔"
چرواہا ڈر گیا اور پہاڑوں میں چلا گیا۔
اس رات اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ پر وحی نازل کی: "اے موسیٰ! تم نے میرے بندے اور میرے درمیان جدائی ڈال دی۔ وہ سادہ تھا لیکن اس کا دل مجھ سے لگا ہوا تھا۔ مجھے اس کے لفظ نہیں، اس کا اخلاص چاہیے۔"
حضرت موسیٰؑ فوراً چرواہے کے پاس گئے اور کہا: "اللہ کو تمہاری دعا پسند آئی ہے۔ جس طرح دل سے مانگو مانگو۔"
<h3>سبق</h3>
1. <b>اللہ دل دیکھتا ہے لفظ نہیں</b><br>
2. <b>اخلاص کے ساتھ کی گئی ہر دعا قبول ہوتی ہے</b><br>
3. <b>عبادت میں سادگی بہترین ہے</b>
اللہ ہمیں اخلاص والا دل عطا فرمائے۔ آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں